سورۃ البقرہ
ٱلطَّلَـٰقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌۢ بِإِحْسَـٰنٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا۟ مِمَّآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ شَيْـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
Aṭ-ṭalāqu marratān(i), fa imsākum bima‘rūfin au tasrīḥum bi'iḥsān(in), wa lā yaḥillu lakum an ta'khużū mimmā ātaitumūhunna syai'an illā ay yakhāfā allā yuqīmā ḥudūdullāh(i), fa in khiftum allā yuqīmā ḥudūdullāh(i) falā junāḥa ‘alaihimā fīmaftadat bih(ī), tilka ḥudūdullāhi falā ta‘tadūhā, wa may yata‘adda ḥudūdullāhi fa'ulā'ika humuẓ-ẓālimūn(a).
طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں
📝 حاشیہ
٦٨) یہ آیت خلع اور عِوض (بدلہ/معاوضہ) قبول کرنے کی قانونی اور شرعی بنیاد ہے۔ خلع سے مراد بیوی کا عدالت کے ذریعے عِوض (فدیہ یا مالی معاوضہ) ادا کر کے اپنے شوہر سے طلاق (علیدگی) حاصل کرنے کا حق ہے۔