سورۃ البقرہ
لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Lā ikrāha fid-dīn(i), qat tabayyanar-rusydu minal-gayy(i), famay yakfur biṭ-ṭāgūti wa yu'mim billāhi fa qadistamsaka bil-‘urwatil-wuṡqā, lanfiṣāma lahā, wallāhu samī‘un ‘alīm(un).
دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط خیالات سے ا لگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
📝 حاشیہ
٧٩) لفظ "طاغوت" ہر اس شخص یا چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو برائی میں حد سے تجاوز کر جائے۔ اسی لیے شیطان، دجال، جادوگر، اللہ سبحانہ و تعالی کے قانون کے خلاف قانون بنانے والے (فیصلہ کرنے والے)، اور ظالم و جابر حکمران، ان سب کو طاغوت کہا جاتا ہے۔