سورۃ البقرہ
إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلْفُلْكِ ٱلَّتِى تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَـٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلْمُسَخَّرِ بَيْنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
Inna fī khalqis-samāwāti wal-arḍi wakhtilāfil-laili wan-nahāri wal-fulkil-latī tajrī fil-baḥri bimā yanfa‘un-nāsa wa mā anzalallāhu minas-samā'i mim mā'in fa aḥyā bihil-arḍa ba‘da mautihā wa baṡṡa fīhā min kulli dābbah(tin), wa taṣrīfir-riyāḥi was-saḥābil-musakhkhari bainas-samā'i wal-arḍi la'āyātil liqaumiy ya‘qilūn(a).
(اِس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکا رہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جوا نسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اِسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں
📝 حاشیہ
٤٧) زمین کی گردش کے نتیجے میں رات اور دن کا بدلنا عالمی سطح پر ہوا کو متحرک کرتا ہے، جو ہوا (بادِ نسیم) کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہوا کے ذریعے، کشتیاں اپنے بادبانوں کا استعمال کرتے ہوئے حرکت کر سکتی ہیں۔ ہوا ہی سمندروں سے پانی کے بخارات کو منتقل کرتی ہے یہاں تک کہ بادل بنتے ہیں، پھر یہ انہیں خشکی کی طرف دھکیلتی ہے یہاں تک کہ وہ بارش بن کر برستے ہیں۔ اس بارش کے ذریعے، وہ نباتات اگتی ہیں جو مختلف اقسام کے جانوروں کی زندگی کا سامان بنتی ہیں۔