سورۃ البقرہ

وَأَتِمُّوا۟ ٱلْحَجَّ وَٱلْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا۟ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّهُۥ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِۦٓ أَذًى مِّن رَّأْسِهِۦ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُۥ حَاضِرِى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

Wa atimmul-ḥajja wal-‘umrata lillāh(i), fa'in uḥṣirtum famastaisara minal-hady(i), wa lā taḥliqū ru'ūsakum ḥattā yablugal-hadyu maḥillah(ū), faman kāna minkum marīḍan au bihī ażam mir ra'sihī fafidyatum min ṣiyāmin au ṣadaqatin au nusuk(in), fa'iżā amintum, faman tamatta‘a bil-‘umrati ilal-ḥajji famastaisara minal-hady(i), famal lam yajid faṣiyāmu ṡalāṡati ayyāmin fil-ḥajji wa sab‘atin iżā raja‘tum, tilka ‘asyaratun kāmilah(tun), żālika limal lam yakun ahluhū ḥāḍiril-masjidil-ḥarām(i), wattaqullāha wa‘lamū annallāha syadīdul-‘iqāb(i).

اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جاؤ)، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور ا گر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے یہ رعایت اُن لوگوں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

📝 حاشیہ
٥٦) "ہدی" سے مراد وہ مویشی (چوپائے) ہیں جنہیں عید الاضحی اور ایامِ تشریق کے دوران حدودِ حرم (مکہ مکرمہ) میں ذبح کیا جاتا ہے، جس کی وجہ حج تمتع یا قران کا ادا کرنا، حج یا عمرہ کے مناسک میں سے کسی واجب کو چھوڑنا، احرام کی کسی پابندی کی خلاف ورزی کرنا، یا خالصتاً نفلی عبادت کے طور پر اللہ سبحانہ و تعالی کا قرب حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ ٥٧) "فدیہ" (فدیہ/جرمانہ) سے مراد وہ معاوضہ ہے جو کسی خاص وجہ سے حج کے مناسک کو مکمل نہ کر پانے کی صورت میں واجب ہوتا ہے۔

تمام آیات 286 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔